مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے اعلان کیا کہ اگر ان کے پاس اختیار ہوتا تو وہ امریکہ کو عالمی فوجداری عدالت کا رکن بناتے اور صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف جاری گرفتاری کے حکم پر عمل درآمد کرتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکومت کو اس عدالت میں شامل ہونا چاہیے اور اس کی جانب سے جاری کیے گئے تمام احکامات کا احترام کرنا چاہیے۔ 124 ممالک اس کے رکن ہیں، لیکن امریکہ اور اسرائیل اس عدالت کو تسلیم نہیں کرتے۔
ممدانی نے اس سے قبل بھی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غاصب صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی تقریر کے ردعمل میں کہا تھا کہ نیتن یاہو نے اس ادارے کے پلیٹ فارم کو اس جھوٹ کو دہرانے کے لیے استعمال کیا جو فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے اقدامات کو بے داغ ظاہر کرنے کے مقصد سے بیان کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی جھوٹ اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا کہ نیتن یاہو اب بھی عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے گرفتاری کے حکم کی بنیاد پر مطلوب ہے۔
واضح رہے نیتن یاہو نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خالی نشستوں سے کی گئی اپنی تقریر کے دوران، ممدانی پر اسرائیل اور اس حکومت کے فوجیوں کے بارے میں حقیقت کو مسخ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ حقائق کو مسخ کرنے پر آپ کو شرم آنی چاہیے۔
غاصب صیہونی قابض وزیرِ اعظم نے ممدانی پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ حماس کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف اپنے مؤقف کے ذریعے انہوں نے نیویارک کے یہودیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا ہے۔
آپ کا تبصرہ